Ghazal

 منیرہ حسین انجار

                           غزل

مانگ لیا تو کیوں خواہش کی ضد لگائی ہم نے

طریقہ بندگی کیا ہے جانتے ہو کیا؟ سر کو نہیں پہلے دل کو جھکایا جاتا ہے۔

سر سجدے میں ہوں اور دل فریب میں

ایسے بھلا کیسے وہ مان جائے گا۔

توڑ دی تسبیح میں نے، گن گن کر کیا نام لوں

جو بن منگے ہی بے حساب دیتا ہے۔

روشنیوں میں تو سب ہی ساتھ دیتے ہیں لیکن

اندھیروں میں اس کے سوا کون ساتھ دیتا ہے؟

ملتا تو بہت کچھ ہے زندگی میں مگر

یاد وہی رکھتے ہیں جو حاصل نہ ہو سکا۔

تکالیف نے جب بھی گھیرا ہم کو تو ہاتھ اسی کے آگے پھیلائے

جب نوازا اس نے تو اے نوع تو نے کہا یہ تو میرے علم و تدبیر کا نتیجہ ہے۔

منیرہ اس کا بندہ ہے وہی جو بندوں کا خدا نہ ہوں

تو معاف کر، بخش دے اور رہم کر مالک۔

One thought on “Ghazal

Leave a comment